حاملہ خواتین کی مشقت، نوزائیدہ بچوں کے پھیپھڑے بھی مضبوط بناتی ہے

اوسلو: ناروے اور سویڈن میں کی گئی ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ دورانِ حمل خواتین کی جسمانی مشقت مثلاً ورزش سے ان کے نوزائیدہ بچوں کے پھیپھڑے بھی مضبوط ہوتے ہیں۔

یورپین ریسپائریٹری سوسائٹی کی حالیہ انٹرنیشنل کانگریس میں پیش کی گئی اس تحقیق سے حاملہ خواتین میں جسمانی سرگرمیوں کی اہمیت کا ایک اور پہلو سامنے آیا ہے۔

یونیورسٹی آف اوسلو، ناروے کی ڈاکٹر ہریفنا کارٹن نے یہ تحقیق 814 نوزائیدہ بچوں اور ان کی ماؤں پر کی ہے۔
اس تحقیق میں حمل کے دوران خواتین کی جسمانی سرگرمیوں بشمول گھریلو کام کاج اور ورزش وغیرہ سے متعلق معمولات پر نظر رکھی گئی جبکہ بچوں کی پیدائش کے تین ماہ بعد ان بچوں کی صحت، بالخصوص پھیپھڑوں کی کیفیت کا جائزہ لیا گیا۔

تجزیئے سے معلوم ہوا کہ دورانِ حمل زیادہ آرام کرنے والی خواتین کے یہاں پیدا ہونے والے 290 بچوں میں سے 8.6 فیصد کے پھیپھڑے خاصے کمزور تھے۔

ان کی نسبت، حمل کے دوران چاق و چوبند اور سرگرم رہنے والی خواتین کے نوزائیدہ بچوں میں کمزور پھیپھڑوں کی شرح 4.2 فیصد دیکھی گئی۔

واضح رہے کہ پیدائش کے وقت کمزور پھیپھڑوں کا نتیجہ آئندہ زندگی میں سانس کی کئی بیماریوں کو جنم دے سکتا ہے جن میں دمہ بطورِ خاص قابلِ ذکر ہے۔

ڈاکٹر ہریفنا کا کہنا ہے کہ اس تحقیق میں نوزائیدہ بچوں میں پھیپھڑوں پر اثر انداز ہونے والے صرف ایک پہلو کا جائزہ لیا ہے۔

اس بارے میں حتمی طور پر جاننے کےلیے ایک وسیع مطالعے کی ضرورت ہے تاکہ مختلف پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس حوالے سے کوئی حتمی نتیجہ اخذ کیا جاسکے۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں