اومیگا تھری؛ الزائیمر کے مریضوں کیلیے بھی مفید

سویڈن: ایک چھوٹے سے مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ چکنی مچھلیوں اور دیگر اجناس میں عام پایا جانے والا اومیگا تھری فیٹی ایسڈ الزائیمر کے مریضوں کے لیے بہت مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ فیٹی ایسڈ سے ان مریضوں کی یادداشت بہتر رہتی ہے۔

اس ضم میں اپسالا یونیورسٹی کے سائنسداں اور کیرولنسکا انسٹی ٹیوٹ کی ماہر یون فروئنڈ لی وائی نے کہا ہے کہ یہ دنیا میں اپنی نوعیت کا پہلا مطالعہ ہے جس میں الزائیمر کے مریضوں پر اومیگا تھری کے اثرات معلوم کئے گئے ہیں۔ اس میں الزائیمر کےبایو مارکرز کا بطورِ خاص مطالعہ کیا گیا ہے۔

اگرچہ اس میں شریک افراد کی تعداد کم ہے لیکن اس کی شماریاتی اہمیت اپنی جگہ ہے۔ اس سروے میں 33 مریضوں کو شامل کیا گیا جو الزائیمر کے شکار تھے۔ ان میں سے 18 افراد کو صبح و شام اومیگا تھری کی گولیاں کھلائی گئیں جبکہ 15 افراد کو نہیں دی گئیں۔ یہ سلسلہ چھ ماہ تک جاری رہا اور تمام افراد کو شروع، میں درمیان میں اور سروے کے اختتام میں حافظے کے ٹیسٹ سے گزارا گیا۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جن افراد کو اومیگا تھری کھلائی گئی ان کی یادداشت مستحکم رہی اور اس میں کوئی تنزلی نہیں دیکھی گئی جبکہ اومیگا نہ کھانے والے مریضوں کی یادداشت میں مزید زوال واقع ہوا۔ واضح رہے کہ الزائیمر کے مریضوں کا حافظہ بہت تیزی سے تبدیل ہوتا رہتا ہے۔

ساتھ ہی تمام شرکا کے حرام مغز سے بھی مائع نکال کر اس کا تجزیہ کیا گیا لیکن اومیگا تھری استعمال کرنے یا نہ کرنے والوں میں کوئی فرق نہیں دیکھا گیا لیکن حافظے میں واضح فرق تھا۔ اس پر تنقید کرنے والے سائنسدانوں نے کہا ہے کہ اول تو اس تحقیق میں بہت کم افراد شامل کئےگئے ہیں لیکن انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ اس پر مزید تحقیق ہونا ضروری ہے۔

اسی ٹیم نے 15 سال قبل 200 مریضوں پر ایسی ہی تحقیق کی تھی۔ اس میں دیکھا گیا تھا کہ اومیگا تھری کے اجزا کھانے سے وہ دماغ تک منتقل ہوتے ہیں اور دماغ پر مثبت اثرات ڈالتے ہیں۔ تاہم یون کی ٹیم اگلے مرحلے میں اس سے بڑی تعداد کےمریضوں کو شامل کرے گی اوران کے مزید ٹیسٹ کئےجائیں گے جن میں خون کے ٹیسٹ بھی ہوں گے۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں