پولینڈ کے غوطہ خوروں نے دنیا کا آٹھواں عجوبہ دریافت کرلیا

وارسو: پولینڈ کے غوطہ خوروں نے دوسری جنگ عظیم میں سمندر برد ہوجانے والے دنیا کے آٹھویں عجوبے کو دریافت کرلیا ہے، جسے باہر نکالنے کے لیے آج سے کارروائی کا آغاز کیا جائے گا۔

برطانوی ویب سائٹ دی مرر کے مطابق اٹھارہویں صدی میں پروشیا (ماضی میں یورپ کی ایک مملکت تھی) میں تیار ہونے والے جواہرات سے جڑے ’ عنبر روم‘ کو روس کے سینٹ پیٹرس برگ کے نزدیک کیتھرائن محل میں نصب کیا گیا تھا۔ دوسری جنگ کے دوران نازی فوج اسے ٹکڑے ٹکڑے کرکے کوئنسبرگ شہر لے گئی، جس کے بعد یہ غائب ہوگیا تھا اور جب سے اس کی گمشدگی ایک معمہ بنی ہوئی تھی۔

گزشتہ سال پولینڈ سے تعلق رکھنے والے شوقیہ غوطہ خوروں کی ایک ٹیم نے بحیرہ بالٹک کی تہہ میں موجود ایک جہاز کے ملبے میں جواہرات سے مزین اس کمرے کی موجودگی کا شبہ ظاہر کیا تھا۔ ان غوطہ خوروں کو پولینڈ کے ساحلی شہر استکا سے 70 کلومیٹر فاصلے پر اپریل 1945 میں ڈوبنے والے جہاز Karlsruheکا ملبہ ملا تھا۔
اس مہم کی سربراہی کرنے والے ٹومیک اسٹیچورا کااس بارے میں کہنا تھا کہ ’ ہمیں یقین ہے کہ سمندر کی تہہ میں موجود اس جہاز کے ملبے میں دنیا کا آٹھواں عجوبہ سمجھا جانے والا ’عنبر روم‘ ٹکڑوں کی شکل میں بڑے قفل بند صندوقوں میں بند ہیں جوہم نے روبوٹس کے ساتھ کی جانے والی آخری غوطہ خوری کے دوران دیکھے تھے۔

ٹومیک کی بات کو مورخ پیوٹر میکالک کی اس بات سے بھی تقویت ملتی ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’ 1945 میں ڈوبنے والے جہازKarlsruhe پر 306 ٹن وزنی سامان لدا ہوا تھا اوربارودی سرنگیں صاف کرنے والے دو جہاز اس کی حفاظت پر مامور تھے، جس سےظاہر ہوتا ہے کہ اس جہاز پر نہایت قیمتی سامان لدا ہوا تھا۔

جہاز کے ملبے سے ’عنبر روم‘ کو نکالنے کے لیے آج سے ایک زیر آب مشن کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ اس مشن میں تین غوطہ خوروں پر مشتمل ٹیم جہاز کے ملبے میں داخل ہونے کے لیے 12 مرتبہ تہہ میں جائیں گے، اورہر ٹیم کے پاس سمندر کی تہہ میں رہتے ہوئے ملبے میں موجود صندوقوں کا معائنہ کرنے کے لیے 30 منٹس کا وقت ہوگا۔

واضح رہے کہ عنبر روم کی نقل کو کیتھرائن محل میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک دہائی میں مکمل ہونے والے اس کمرے کا افتتاح 2003 میں کیا گیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں