طوطے اپنی چھریاں اور کانٹے خود بناسکتے ہیں

ویانا، آسٹریا: جنگل میں پائے جانے والے خاص قسم کے بڑے طوطے یا کوکاٹو پھلوں کا مغز کھانے کےلیےدرختوں کے تنکوں سے خاص اوزار بناتے ہیں۔ اس طرح پرندوں میں یہ دوسرا اہم جانور ہے جو اپنا کٹلری سیٹ خود تیار کرسکتا ہے۔

انڈونیشیا کے دوردراز تانمبنر جزائر میں تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے دو طوطوں کا مشاہدہ کیا۔ ماہرین نے دیکھا کہ سمندری آم نامی ایک پھل سے مغز نکالنے کے لیے دونوں نے درخت کے تنکوں کو کامیابی سے استعمال کیا۔ اس نسل کے طوطے پورٹو ریکو اور سنگاپور میں بھی پائے جاتے ہیں۔

ویانا کی جامعہ برائے حیوانیاتی ادویہ سے وابستہ بیرینیکا مایوڈوس زویسکا کہتی ہیں کہ یہ طوطے جنگلات میں مشکل سے نظر آتے ہیں ۔ اول یہ درختوں کی گھنی چھتری تلے رہتے ہیں اور شرمیلے ہونے کی باعث انسانوں سے دور بھاگتےہیں۔ ان پرندوں کو گوفِن کوکاٹو بھی کہا جاتا ہے۔
ماہرین نے کل 15 پرندے دیکھے جن میں سے دو ہنرمند طوطے نکلے اور وہ سمندری پھل کا بیج یا مغز کھانے کے لئے مختلف اوزار استعمال کررہے تھے۔ جب قریب سے جاکر دیکھا تو معلوم ہوا کہ ان پرندوں نے مختلف اوزار بنارکھے تھے جو شمار کرنے پر تین مختلف اوزار نکلے۔ ماہرین نے ازراۃ تفنن انہیں پرندوں کا کٹلری سیٹ کہا ہے۔

طوطے نے لکڑی کا ایک مضبوط لیکن سلاخ نما باریک ٹکڑا لیا جسے سے اس نے پھل کھولا۔ اب اس نے ایک اور قدرے نفیس آلہ تھاما جسے بطور چمچہ استعمال کرتے ہوئے اندر موجود بیج نکال کر مزے سے کھانے لگا۔ طوطے نے یہ آلات درخت کی شاخ سے بنائے ہیں اور اس کے لیے کئی شاخوں کو تلاش کرنا پڑتا ہے۔

ماہرین نے دیکھا کہ پرندے نے ایک کھانے کے دوران اوسطاً آٹھ آوزار استعمال کئے کیونکہ ناکارہ ہونے پر وہ اپنے کٹلری سیٹ سے دوسرا آلہ نکال لیا کرتا تھا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ کٹلری سازی کی صلاحیت طوطوں کو ورثے میں نہیں ملی بلکہ ہر طوطے نے اپنے لحاظ سے اختراع کی ہے یعنی پھل کے لحاظ سے وہ اوزار بناتے ہیں۔ ان پرندوں کی چونچ چھوٹی اور کم طاقتور ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ بڑے اور ڈھیٹ پھلوں کو نہیں کھول سکتے اور اب مختلف برتن ایجاد کررہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں