ازبکستان میں طالبات کو حجاب کرنے کی اجازت دے دی گئی

تاشقند: وسط ایشیائی ملک ازبکستان میں تعلیمی اداروں میں حاضری بڑھانے کے لیے لڑکیوں کو حجاب کرنے کی اجازت دے دی گئی۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق ازبکستان نے رواں سال کی ابتدا میں قانون میں ترمیم کرتے ہوئے خواتین کو حجاب کرنے کی اجازت دے دی تھی تاہم اسکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں کو اس میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔ جس کے بعد سے تعلیمی اداروں میں لڑکیوں کی حاضری بہت کم ہوگئی تھی اور عوام نے قانون کی خلاف ورزی کرنے سے انکار کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کو اسکول بھیجنے سے انکار کردیا تھا۔

اس بارے میں ازبک وزیر تعلیم شہرذاد شرماتوف کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کا فیصلہ کرنا بہت ضروری تھا تاکہ ہر بچے کے سیکولر تعلیم حاصل کرنے کو یقینی بنایا جاسکے، تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ کس عمر تک کی لڑکیو ں کو حجاب کرنےکی اجازت دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ ازبکستان کی بین الاقوامی یونیورسٹی نے مئی 2019 میں نقاب اتارنے سے انکار پر 19 سالہ طالبہ لوئزا میومن جونوا کو یونیورسٹی سے نکال دیا تھا۔ کیوں کہ ان کا اسلامی لباس ملک بھرکے تعلیمی اداروں میں سیکولر ڈریس کوڈ کی حکومتی پالیسی کے خلاف تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں