پنجشیر کی فتح پر طالبان کی کابل میں ہوائی فائرنگ، 17 ہلاک اور 41 زخمی

کابل: طالبان کے پنجشیر میں شدید لڑائی کے بعد فتح یابی کے دعوے پر کابل میں ہوائی فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں 17 افراد ہلاک اور 41 زخمی ہوگئے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق طالبان کی جانب سے پنجشیر میں فتح کے دعوے کے بعد کابل ہوائی فائرنگ سے گونج گیا۔ ہنجشیر فتح کرنے کی خبر کی تسدیق نہ ہونے کے باوجود طالبان مسلسل ہوائی فائرنگ کر کے جشن مناتے رہے۔

کابل میں آج شب پنجشیر کی فتح کی خوشی میں کی گئی فائرنگ pic.twitter.com/dlhgobrpDH
— امارتِ اسلامی اردو (@EmartIslamiUrdu) September 3, 2021

مختلف اسپتالوں میں ہوائی فائرنگ کے دوران گولیاں لگنے سے 17 افراد کی لاشیں لائی گئی ہیں جب کہ 41 افراد کو زخمی حالت میں اسپتال لایا گیا ہے۔ زخمیوں میں سے 9 کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔

Emergency Hospital in Kabul said 17 bodies and 41 wounded people were transferred to its facility with harm caused by last night’s citywide firing into the air.#TOLOnews pic.twitter.com/oWBKZhrAZW

— TOLOnews (@TOLOnews) September 4, 2021

ہوائی فائرنگ سے اتنے بڑے پیمانے پر جانی نقصان پر ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنی ٹوئٹ میں طالبان جنگجوؤں کو ہدایت کی ہے کہ اللہ کا شکر ادا کریں۔ ہوائی فائرنگ سے گریز کریں جو ہتھیار اور گولہ بارود آپ کے ہاتھ میں ہے اسے ضائع کرنے کا کسی کو حق نہیں ہے۔ سرد گولیاں عام شہریوں کو زیادہ نقصان پہنچاتی ہیں اس لیے بلا ضرورت گولی نہ چلائیں۔

کابل ښار او ټول هیواد کې د مجاهدینو د پام وړ:
له هوایي ډزو څخه جدا ډډه وکړئ او پر ځای یې د الله تعالی شکر اداء کړئ.
ستاسي په لاس کې وسله او مرمۍ بیت المال دي، هیڅوک یې د ضائع کیدو حق نلري.
سړې مرمۍ عامو خلکو ته د زیان اړولولو قوي احتمال لري؛ نو بناء بې ځایه ډزې مه کوئ.

— Zabihullah (..ذبـــــیح الله م ) (@Zabehulah_M33) September 3, 2021

طالبان کی مقامی قیادت کی جانب سے پنجشیر کو فتح کرنے کے دعوے کے 20 گھنٹوں کے بعد بھی آزاد ذرائع یا طالبان کے ترجمانوں سے حتمی تصدیق نہیں ہو سکی ہے جب کہ مزاحمتی فورس کے ترجمان نے بتایا کہ طالبان کے ساتھ گھمسان کی لڑائی جارہی ہے اور طالبان کو وادی میں داخل ہونے میں ناکامی ہوئی ہے۔

ملا عمر رحمہ کے بیٹے ملا محمد یعقوب نے کہا ہے کہ ہوائی فائرنگ بیت المال سے خیانت ہے اور اس سے لوگوں کی زندگی کو خطرے میں ڈالنا ہے
مومن فتح یا خوشی کا اظہار ہوائی فائرنگ سے نہیں بلکہ رب کے آگے جھکنے اور سجدے سے کرتا ہے،

— امارتِ اسلامی اردو (@EmartIslamiUrdu) September 3, 2021

دریں اثناء اشرفی غنی دور کے نائب صدر اور طالبان مخالف گروہ کے رکن امر اللہ صالح نے ایک مقامی ٹی وی کو بتایا کہ ان کے ملک سے فرار ہونے کی خبریں درست نہیں ہیں۔ امر اللہ صالح نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ہمیں مشکلات کا سامنا ہے لیکن ہم آخری دم تک طالبان کے خلاف لڑیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں