کیا کورونا وائرس کا ’میو ویریئنٹ‘ انتہائی خطرناک ہے؟

جنیوا: عالمی ادارہ صحت (WHO) نے گزشتہ روز کورونا وائرس کی ’قابلِ توجہ‘ اقسام میں ایک نئے ’میو ویریئنٹ‘ (Mu variant) کا اضافہ کردیا ہے جسے B.1.621 کا سائنسی نام دیا گیا ہے۔ البتہ مبہم خبروں کی وجہ سے اس بارے میں تشویش پھیل رہی ہے۔

حالیہ عالمی کووِڈ 19 وبا کا باعث بننے والے ناول کورونا وائرس (سارس کوو2) کی اب تک درجنوں اقسام (ویریئنٹس) سامنے آچکی ہیں۔

تاہم ان میں سے چار ویریئنٹس (الفا، بی-ٹا، گیما، ڈیلٹا) کو زیادہ وبائی پھیلاؤ کی بناء پر عالمی ادارہ صحت نے ’قابلِ تشویش اقسام‘ (variants of concern) قراد دیا ہے۔ ان میں سے بھی اس وقت ’ڈیلٹا ویریئنٹ‘ دنیا بھر کے بیشتر ملکوں میں سب سے زیادہ لوگوں کو متاثر کررہا ہے۔

ان کے علاوہ ’سارس کوو 2‘ وائرس کی بعض اقسام ایسی بھی سامنے آئی ہیں جو فی الحال قابلِ تشویش تو نہیں مگر اِن کی ساخت اور وبائی پھیلاؤ کو دیکھتے ہوئے خدشہ ہے کہ آنے والے دنوں اور مہینوں میں وہ سنجیدہ صورت اختیار کرسکتی ہیں۔

اسی لیے اِن ویریئنٹس پر زیادہ توجہ رکھنا ضروری خیال کیا جارہا ہے، لہذا انہیں ’قابلِ توجہ اقسام‘ (variants of interest) کا مجموعی عنوان دیا گیا ہے۔

اب تک ’سارس کوو2‘ وائرس کے پانچ ویریئنٹس (اِیٹا، آئیوٹا، کاپا، لیمبڈا اور میو) کو ’قابلِ توجہ اقسام‘ میں شامل کیا جاچکا ہے۔

قابلِ توجہ اقسام کی فہرست میں تازہ ترین اضافہ ’میو ویریئنٹ‘ کا ہے جو عالمی ادارہ صحت نے 30 اگست 2021 کے روز کیا تھا جبکہ اس کا باضابطہ اعلان گزشتہ روز یعنی 31 اگست 2021 کو اسی ادارے کی ویب سائٹ پر کووِڈ 19 کے وبائی پھیلاؤ سے متعلق ہفتہ وار اپ ڈیٹ میں کیا گیا تھا۔

’میو ویریئنٹ‘ پہلے پہل جنوری 2021 میں جنوبی امریکی ملک کولمبیا سے سامنے آیا تھا جو بعد ازاں دیگر جنوبی امریکی اور یورپی ممالک سے بھی رپورٹ ہوا۔

29 اگست 2021 تک ’میو ویریئنٹ‘ سے 39 ملکوں میں مصدقہ متاثرین کی تعداد 4650 ہوچکی تھی لیکن ساتھ ہی ساتھ جنوری سے اگست تک اس سے متاثر ہونے والوں کی شرح بتدریج کم ہوتی چلی گئی جو آج 0.1 فیصد ہوچکی ہے۔

تاہم آج اس کا زیادہ پھیلاؤ جنوبی امریکا کے صرف دو ملکوں یعنی کولمبیا (39 فیصد) اور ایکواڈور (13 فیصد) تک محدود رہ گیا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی اپ ڈیٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’میو ویریئنٹ‘ میں کچھ ایسی تبدیلیاں (میوٹیشنز) دیکھی گئی ہیں جو ممکنہ طور پر اسے موجودہ ویکسینز یا انسانی جسم کے دفاعی ردِعمل سے بچانے میں مدد دے سکتی ہیں۔

آسان الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ ’میو ویریئنٹ‘ کے خلاف موجودہ کورونا ویکسینز کے ناکارہ ہونے کا خدشہ ضرور ہے لیکن اب تک ایسا نہیں ہوا ہے۔

اس حوالے سے ابتدائی نوعیت کی کچھ رپورٹیں سامنے آئی ہیں مگر ابھی ان کی تصدیق ہونا باقی ہے۔

یعنی یہ کہ ’میو ویریئنٹ‘ سے محتاط رہیے، گھبرائیے نہیں!

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں