مسلسل بیٹھے رہنے کا ازالہ کرنا ہے تو 40 منٹ کی ورزش کیجئے

آسٹریلیا: ہم جانتے ہیں کہ مسلسل بیٹھے رہنے سے بلڈ پریشر، امراضِ قلب اور دیگر اقسام کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ لیکن اگرآپ مسلسل دس منٹ تک بیٹھے رہتے ہیں تو اس کےمنفی اثرات زائل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ روز 40 منٹ کی سخت یا درمیانے درجے کی ورزش کی جائے۔ ایسی ورزش جس میں پسینہ بہنے لگے یا بدن گرم ضرور ہو۔

اگرآپ کسی دکان پر کھڑے رہ کر اشیا فروخت کرتے ہیں تو اس کا نقصان کم ہوتا ہے لیکن ورزش پھربھی ضروری ہوگی۔ اس ضمن میں 9 سے زائد مطالعات کئے گئے ہیں جس میں چار مختلف ممالک کے 44 ہزار سے زائد افراد کو شامل کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسلسل 10 گھنٹے تک بیٹھے رہنے سے قبل ازوقت موت کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ درمیانی اور شدید درجے کی جسمانی مشقت ، جس کا ذکر ہم آگے کریں گے، سے فالتو بیٹھے رہنے کے منفی اثرات زائل ہوسکتے ہیں۔ اس میں 30 سے 40 منٹ کی درمیانے درجے کی جسمانی سرگرمی مثلاً تیز قدموں سے چلنا، سائیکل چلانا اور باغبانی شامل ہیں۔
یہ تحقیق جامعہ سڈنی میں جسمانی مشقت اور ورزش کے ماہر ڈاکٹر عمانویل اسٹیماٹاکس اور ان کے ساتھیوں نے کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر کسی وجہ سے آپ کی نقل و حرکت کم ہوتی ہے اور مسلسل بیٹھنا پڑتا ہے تو اب بھی اس کا ازالہ ممکن ہے۔ ’ہماری شائع شدہ تحقیق سے ثابت ہے کہ جسمانی ورزش اور مشقت سے بہتر کوئی اور دوا نہیں ہے۔‘

اس ضمن میں ہزاروں رضاکاروں کو فٹنس ناپنے کے دستی آلات اور گھڑیاں وغیرہ پہنائی گئیں۔ کسی مطالعے میں ان سے گھر کے کام کروائے گئے، کسی سے لفٹ کی بجائے سیڑھیاں چڑھنے کو کہا گیا اور کہیں بچوں کے ساتھ کھیلنے کا مشورہ دیا گیا۔ یہ کام ایسے لوگوں کے لیے تھے جو باقاعدہ ورزش کے لئے وقت نہیں دے سکتے تھے۔ تاہم دوسرے گروہ کے لوگوں نے سخت ورزش مثلاً دوڑنے، تیراکی اور سائیکل چلانے کو اہمیت دی۔

کئی مطالعات میں ورزش شروع کرنے کے بعد شرکا کی جسمانی کیفیات کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ روزانہ 30 سے 40 منٹ کی درمیانی اور شدید درجے کی ورزش کےبہت فوائد حاصل ہوتے ہیں۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں