مدرسہ طالبہ زیادتی کیس؛ مہتمم مفتی شاہ نواز عدالت کے احاطے سے گرفتار

راولپنڈی: عدالت نے طالبہ زیادتی کیس میں مدرسے کے مہتمم مفتی شاہ نواز کو عداسلت کے احاطے سے گرفتار کر لیا۔

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی ملک اعجاز آصف کے روبرو مدرسہ طالبہ زیادتی کیس کی سماعت شروع ہوئی تو ملزم مفتی شاہ نواز کے وکیل طلعت محمود زیدی ایڈووکیٹ نے عدالت سے کہا کہ انہیں پولیس کی نئی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم پر مکمل اعتماد ہے، یہ سب سینئر پولیس افسران ہیں، ہمیں ان سے انصاف کی توقع ہے،اگر جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کی سربراہ خاتون ایس پی یہ عدالت میں بیان دیں کہ انہیں تفتیش کے لئے ملزم مفتی شاہ نواز کی ضرورت ہے اور ان کا فوری ڈی این اے ٹیسٹ کرانا ہے تو وہ کمرہ عدالت میں سرنڈر کرنے کے لئے تیار ہے۔

جے آئی ٹی کی سربراہ ایس پی ہیڈ کوارٹر زنیرہ احمد نے عدالت کے روبرو موقف اختیار کیا کہ جے آئی ٹی ابھی بنی ہے، ہم نے ابتدائی تفتیش کی ہے، ہمیں ملزم کے قبضے سے طالبہ کو دکھایا گیا اسلحہ اور اس کے کپڑے برآمد کرنے ہیں، ڈی این اے ،پولی گرافی اور پوٹینسی ٹیسٹ کرانے ہیں ان کے لئے دونوں ملزمان کی ضرورت ہے، ان کی عبوری ضمانتیں خارج اور ہمیں شامل تفتیش کے لئے گرفتار کرنے جسمانی ریمانڈ کی اجازت دی جائے۔
وکیل صفائی نے کہا کہ ملزم کی حد تک ہم سرنڈر کرتے ہیں تاہم خاتون ملزمہ کی درخواست پر ہم دلائل دیں گے خاتون کی گرفتاری کا کوئی جواز نہیں جس پر عدالت نے خاتون ملزمہ ٹیچر عشرت حنیف کا کیس الگ کرتے ہوئے اس کی عبوری ضمانت میں 4 ستمبر تک توسیع کر دی اور فریقین کو آئندہ تاریخ پر دلائل دینے کا حکم دیا، عدالت نے تمام ٹیسٹوں کے مراحل 4 روز میں مکمل کرنے کے سخت احکامات جاری کئے، عدالت نے خاتون ایس پی کو سختی کے ساتھ حکم بھی جاری کیا کہ ملزمہ عبوری ضمانت پر ہے اس سے سورج نکلنے کے بعد اور سورج غروب ہونے سے قبل تفتیش کرنا ہو گی۔ عبوری ضمانت خارج ہوتے ہی ملزم مفتی شاہ نواز کو گرفتار کر لیا گیا۔

گرفتاری سے قبل ملزم پرنسپل مفتی شاہ نواز نے ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مسکان میری بیٹی تھی ہے اور رہے گی، یہ میری بیٹیوں کے ساتھ مل کر پڑھتی رہی ہے، میں خود شفاف انکوائری اور حقائق سامنے لانے کے لئے ڈی این اے ٹیسٹ پر زور دے رہا ہوں، شکر ہے اب عدالتی حکم پر ڈی این اے ٹیسٹ ہوگا، اس ٹیسٹ سے تمام حقائق سامنے آجائیں گے، مجھ پر جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا جس پر میں سب کو معاف کرتا ہوں تاہم اس مقدمہ سے دینی مدرسوں کے خلاف سازش کی گئی ہے۔ بچیوں کی دینی تعلیم پر سوالیہ نشان لگایاا گیا ہے اس کی معافی نہیں ہوگی،علماء کرام پر تہمت الزام تراشی کرنا غلط ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں