امریکیوں کے کابل ایئرپورٹ سے نکلنے میں طالبان کی مدد کا انکشاف

واشنگٹن: کابل ایئرپورٹ سے امریکی باشندوں کا باحفاظت انخلا طالبان کی مدد اور ان کی نگرانی میں ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

سی این این کے مطابق امریکی محکمہ دفاع کے کچھ عہدے داروں نے اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج نے طالبان سے خفیہ مذاکرات کیے جس کے نتیجے میں طالبان کابل شہر میں موجود امریکی باشندوں کو گروپس کی شکل میں ایئرپورٹ کے خفیہ دروازوں پر چھوڑ گئے جہاں سے انہیں طیاروں کے ذریعے امریکا واپس لایا گیا۔

واضح رہے کہ ایک روز قبل امریکی جنرل میکنزی نے کہا تھا کہ کابل ایئرپورٹ سے انخلا میں طالبان نے ہمارے ساتھ تعاون کیا.
ایک اور اعلی اہلکار نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا کی اسپیشل فورسز نے کابل کے حامد کرزئی ایئر پورٹ پر ایک خفیہ دروازہ اور کال سینٹرز قائم کیے تھے جس کے ذریعے امریکیوں کو انخلا کا طریقہ کار سمجھایا گیا۔ ان کال سینٹرز کے ذریعے امریکیوں کو ایئرپورٹ کے نزدیک ایک خفیہ مقام پر جمع ہونے کا کہہ دیا گیا تھا اور طالبان نے ان امریکیوں کی شناختی دستاویزات چیک کرکے انہیں اس خفیہ دروازے تک پہنچایا جو خصوصی طور پر امریکیوں کے ایئر پورٹ کے اندر جانے کے لیےبنایا گیا تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ طالبان کی مدد سے ہونے والے ’ باحفاظت انخلا‘ کے ایک دن میں کئی مشن سرانجام دیے گئے۔ جب کہ امریکیوں کو ایک جگہ جمع کرنے کا مقام حامد کرزئی ایئرپورٹ کے گیٹ سے تھوڑے فاصلے پر موجود وزارت داخلہ کی عمارت میں بنایا گیا تھا۔ امریکیوں کو با حفاظت نکالنے کے اس سارے انتظام کے بارے میں محکمہ دفاع کے افسر کا کہنا ہے کہ امریکیوں کو ایک جگہ جمع ہونے کے بارے میں متعدد پیغامات دیے گئے اور اس طریقے نے بہت خوبصورتی سے کام کیا۔

امریکی محکمہ دفاع کے ایک اور اعلی اہل کار نے سی این این کو بتایا کہ ایلیٹ جوائنٹ اسپیشل آپریشن کمانڈ اور دیگر اسپیشل آپریشن یونٹس نے مل کر امریکیوں کو نکالنے کے لیے ’ کال سینٹرز‘ کا علیحدہ سے ایک اور انتظام کیاتھا، جسے انخلا کا عمل مکمل ہونے تک خفیہ رکھا گیا۔ ان کال سینٹرز سے امریکیوں کو ’ خفیہ دروازے ‘ تک پہنچنے کے بارے میں ہدایت دی گئیں۔

یاد رہے کہ امریکا کی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر جنرل میکینزی نے گزشتہ روز ہونے والی پریس بریفنگ میں پہلی بار انخلا میں امریکا کی اسپیشل آپریشنز فورسز کے شامل ہونے کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ان فورسز کی وجہ سے 1 ہزار سے زائد امریکی شہریوں اور 2 ہزار سے زائد افغانیوں کی فون کالز اور ویکٹرز کے ذریعے انخلا میں مدد کی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں