چینی، آٹا اور منی لانڈرنگ کے ملزمان کو انجام تک پہنچانا اولین ترجیح ہے، چیئرمین نیب

اسلام آباد: چئئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ چینی، آٹا، منی لانڈرنگ، جعلی اکاؤنٹس، اختیارات کا ناجائز استعمال، آمدن سے زائد اثاثے، غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیزاور مضاربہ اسکینڈل کے ملزمان کو قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچانا نیب کی اولین ترجیح ہے۔

قومی احتساب بیورو کے چئیرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کی زیرصدارت اسلام آباد میں ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس ہوا۔ جس میں 17 انکوائریز کی منظوری دی گئی۔ جن میں جعلی بینک اکاؤنٹ اسکینڈل میں پبلک آفس ہولڈرز، لیگل پرسنز اور دیگرکے خلاف 10 انکوائریز، پبلک آفس ہولڈرز، جعلی بینک اسکینڈل میں اومنی گروپ کی متعلقہ شوگر ملز کے مالکان و ڈائریکٹرز، سمٹ بینک لمیٹڈ کا متعلقہ عملہ اور دیگر، او جی ڈی سی ایل کے افسران و اہلکار، عمران سلیم انسپکٹر پنجاب پولیس، محمد نعیم اکبر، عامر اسحاق ملک سٹی ہاؤسنگ اسکیم پرائیویٹ لمیٹڈ، کیپٹن محمد اعجاز ہارون سابق منیجنگ ڈائریکٹر پی آئی اے،علی طاہر قاسم چیف کمرشل آفیسر پی آئی اے، طارق محمود شیخ چیف ایگزیکٹیو آفیسر میسرز ائیر انٹرنیشنل پرائیویٹ لمیٹڈ اور دیگر، اکبر ناصر خان سابق چیف آپریٹنگ آفیسر پنجاب سیف سٹی اتھارٹیرز افسران و اہلکار اور دیگر کے خلاف انکوئریز کی منظوری شامل ہے۔ اس کے علاوہ آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ اتھارٹی کمپنی لمیٹڈ کی انتظامیہ کے خلاف انوسٹی گیشنز کی بھی منظوری دی گئی۔

قومی احتساب بیورو کے چئیرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کہا کہ میگا کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جار ہے ہیں۔ چینی، آٹا، منی لانڈرنگ، جعلی اکاؤنٹس، اختیارات کا ناجائز استعمال، آمدن سے زائد اثاثے، غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیزاور مضاربہ اسکینڈل کے ملزمان کو قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچانا نیب کی اولین ترجیح ہے۔
جاوید اقبال نے کہا کہ نیب نے گزشتہ تین سال سے زائد عرصہ میں ان افراد کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جن سے احتساب کے بارے میں پہلے سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔ نیب نے گزشتہ 3 سال سے زائد عرصہ میں 535 ارب روپے بالواسطہ اور بلاواسطہ طور پر بدعنوان عناصر سے برآمد کئے جو کہ ایک ریکارڈ کامیابی ہے۔ نیب نے بزنس کمیونٹی کے کے مسائل حل کرنے کیلئے انکم ٹیکس،سیلز ٹیکس اور انڈر انوائسنگ کے مقدمات ایف بی آر کو بھجوادئیے۔ بیوروکریسی کسی بھی ملک کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ نیب بیوروکریسی کا نہ صرف احترام کرتا ہے بلکہ ان کی خدمات کو قدر کی نگا ہ سے دیکھتا ہے۔

چئیرمین نیب نے کہا کہ پلی بارگین کی منظوری معزز احتساب عدالت دیتی ہے۔ پلی بارگین میں ملزم نہ صرف اپنے جرم کا اعتراف کرتا ہے بلکہ ملک و قوم کی لوٹی گئی رقوم کی واپس کرتا ہے۔ نیب نے اپنے قیام سے اب تک 822 ارب روپے بدعنوان عناصر سے بلواسطہ اور بلا واسطہ طور پر برآمد کئے ہیں جو کہ ایک ریکارڈ کامیابی ہے۔ نیب اقوام متحدہ کے انسداد بدعنوانی کنونشن کے تحت پاکستان کا فوکل ادارہ ہے۔ نیب دنیا کا واحد ادارہ ہے جس کے ساتھ چین نے انسداد بدعنوانی کے لیے ایم او یو پر دستخط کئے جو کہ نیب کے لئے اعزاز کی بات ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں