حکومت سازی کیلیے امیر طالبان کی سربراہی میں اجلاس، اہم اعلانات متوقع

قندھار: طالبان کے امیر ہبت اللہ اخوندزادہ کی سربراہی میں قندھار میں جاری حکومت سازی کا مشاورتی اجلاس اختتام پذیر ہوگیا جس میں نئی حکومت سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق قندھار میں طالبان کی نئی حکومت کی تشکیل کے لیے جاری اجلاس تین دن بعد ختم ہوگیا۔ اجلاس کی سربراہی امیرِ طالبان ہبت اللہ اخوندزادہ نے کی جب کہ ملا عبدالغنی برادر سمیت اہم رہنما بھی اجلاس میں شریک تھے۔

ترجمان طالبان نے ٹوئٹر پر اجلاس کے اختتام پذیر ہونے سے آگاہ کرتے ہوئے لکھا کہ قندھار میں ہفتے کے روز شروع ہونے والا امارت اسلامیہ کی سپریم لیڈر کونسل کا تین روزہ اجلاس آج ختم ہوگیا جس میں سیاسی، سماجی اور سیکیورٹی معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ خبر پڑھیں : بیس سال بعد افغانستان سے انخلا مکمل، امریکا نے کابل ایئرپورٹ خالی کردیا

ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے مزید بتایا کہ اجلاس کی سربراہی امیر ہبت اللہ اخوندزادہ نے کی اور حکومت سازی سے متعلق اہم فیصلوں کو حتمی شکل دی گئی اجلاس میں اداروں میں شفافیت، نظم وضبط کی پابندی اور بیت المال سے جڑے امور پر غور کیا گیا۔

ترجمان طالبان نے بتایا کہ اجلاس میں شہریوں کے تحفظ اور ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنے پر زور دیا گیا جب کہ شہری سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے بھی اہم فیصلے کیے گئے۔

یہ خبر بھی پڑھیں : پنجشیرمیں طالبان اور مزاحمتی فورس میں گھمسان کی لڑائی، متعدد جنگجو ہلاک

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق امیر طالبان ملا ہبت اللہ اخوندزادہ نے اپنے اختتامی خطاب میں اسلامی حکومت کے قیام سے متعلق جامع ہدایات دیں اور موجود رہنماؤں کو ان کی ذمہ داریوں سے آگاہ کیا۔

اجلاس کے بعد طالبان کے اہم رہنما قندھار سے کابل کے لیے روانہ ہوگئے۔ امید ظاہر کی جاری ہے کہ جلد نئی حکومت کے خدو خال اور عہدوں کا اعلان کردیا جائے گا۔

واضح رہے کہ طالبان کی جانب سے پہلے ہی اعلان کیا گیا تھا کہ امریکا کے انخلا کے بعد اسلامی حکومت کے قیام کا اعلان کیا جائے گا۔ امریکا کا انخلا اور حکومت سازی کے لیے مشاورت اجلاس آج ختم ہوگیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں