استعمال شدہ گتے سے فن پارے بنانے والی مجسمہ ساز

ٹوکیو: 29 سالہ جاپانی خاتون مونامی اوہنو مجسمہ سازی کے میدان میں ایک منفرد مقام رکھتی ہیں کیونکہ وہ مٹی اور پتھروں کے بجائے استعمال شدہ گتے سے فن پارے تخلیق کرتی ہیں۔

آج سے دس سال پہلے اوہنو نے یہ کام اپنے کالج اسائنمنٹ کے طور پر کیا تھا اور کارڈ بورڈ سے موٹر سائیکل کا ایک ماڈل بنایا تھا۔

اس ماڈل کو لوگوں نے بہت پسند کیا اور یہی پسندیدگی دیکھتے ہوئے انہوں نے گتے سے مجسمے بنانے کا کام باقاعدہ پیشے کے طور پر اختیار کرلیا۔

اب تک وہ اپنے گھر کی سجاوٹ کے علاوہ دوسرے درجنوں افراد اور اداروں کےلیے بھی گتے سے ’’فرمائشی‘‘ فن پارے بنا چکی ہیں جن کا معاوضہ انہوں نے ایک لاکھ ین (ڈیڑھ لاکھ پاکستانی روپے) سے پندرہ لاکھ ین (23 لاکھ پاکستانی روپے) تک وصول کیا ہے۔

اوہنو کے مطابق، معاوضے کا انحصار فن پارے کی پیچیدگی اور باریکی پر ہوتا ہے۔

اب تک جاپان کی کئی آرٹ گیلریز میں گتے اور سے بنائے گئے ان کے فن پاروں کی نمائشیں ہوچکی ہیں جو بہت کامیاب بھی رہی ہیں۔

اب ان کے پاس ایک باقاعدہ ورکشاپ بھی ہے جہاں وہ پوری توجہ سے اپنا کام کرتی ہیں جبکہ انہوں نے ایک میڈیا مینیجر بھی رکھا ہوا ہے جس کا کام ذرائع ابلاغ سے رابطہ رکھنا ہے۔

اوہنو کے مشہور فن پاروں میں گتے سے بنا ہوا بیٹ مین، گوڈزیلا، بیک ٹو دی فیوچر والی کار کا ماڈل اور کئی توپوں والا (گتے سے بنا ہوا) ٹینک شامل ہیں۔

کسی بھی فن پارے کو تیار کرنے سے پہلے وہ گتے کے ٹکڑوں کو موڑ کر ایک خاکہ بناتی ہیں اور پھر انہیں احتیاط سے کاٹ کر، گوند اور معمولی مقدار میں پانی کی مدد سے آپس میں جوڑتی جاتی ہیں۔

اس طرح کئی گھنٹوں، اور بعض اوقات کئی دنوں کی محنت کے بعد وہ اپنے فن پارے کو حتمی شکل دے دیتی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں