کیا یہ قدیم جانور موجودہ چھپکلیوں اور سانپوں کا ’اصلی باپ‘ تھا؟

بیونس آئرس: ارجنٹینا سے ملنے والے ایک رکاز (فوسل) پر نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ چھپکلی نما جانور تھا جو وہاں 23 کروڑ 10 لاکھ سال پہلے پایا جاتا تھا۔ یہ تحقیق امریکا اور ارجنٹینا کے ماہرین نے مشترکہ طور پر کی ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ شاید یہی جانور موجودہ زمانے کی چھپکلیوں اور سانپوں کا ارتقائی جدِامجد یعنی ’اصل باپ‘ بھی تھا۔

مطلب یہ کہ ’’ٹیٹالورا الکوبیری‘‘ (Taytalura alcoberi) کہلانے والے اسی جانور کی بعد والی نسلیں بتدریج ارتقاء پذیر ہو کر سانپوں اور چھپکلیوں کی شکل اختیار کرگئیں۔
آج یہ ریڑھ کی ہڈی والے جانوروں (فقاریوں) کا سب سے بڑا گروہ بھی ہے جس میں چھپکلیوں، سانپوں اور سیکڑوں جل تھلیوں سمیت 11 ہزار سے زیادہ انواع شامل ہیں۔

اس گروہ کا نام ’’لیپیڈوسارس‘‘ (Lepidosaurs) رکھا گیا ہے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس کا ارتقاء آج سے 26 کروڑ سال پہلے شروع ہوا تھا، لیکن قدیم لیپیڈوسارس کے رکازات خاصے نامکمل اور منتشر حالت میں ہیں جس کی وجہ سے ان کا ارتقاء ایک معما بنا ہوا تھا۔

ٹیٹالورا الکوبیری کا رکاز ایک کھوپڑی پر مشتمل ہے جو خاصی مکمل اور محفوظ بھی ہے۔ اس کی جسامت صرف 30 ملی میٹر کے لگ بھگ ہے۔

ظاہری اعتبار سے یہ کھوپڑی نیوزی لینڈ میں پائی جانے والی چھپکلی کی ایک خاص قسم ’’تواتارا‘‘ سے مماثلت رکھتی ہے۔

سائنسدانوں نے جب سی ٹی ایکسرے اسکین سے اس کا تفصیلی معائنہ کیا تو کچھ ایسے خدوخال سامنے آئے جو اس سے پہلے لیپیڈوسارس گروہ کے کسی رکاز یا موجودہ جانور میں نہیں دیکھے گئے تھے۔

محتاط تجزیئے سے معلوم ہوا کہ یہ لیپیڈوسارس سے تعلق رکھنے والی ایک معدوم نوع (species) سے تعلق رکھتا ہے جو اس سے پہلے دریافت نہیں ہوئی تھی۔

اس کے نام کا پہلا حصہ یعنی ’’ٹیٹالورا‘‘ جنوبی امریکا میں دو قبائلی زبانوں کے الفاظ ملا کر بنایا گیا ہے: ’’ٹیٹا‘‘ بمعنی باپ؛ اور ’’لورا‘‘ بمعنی چھپکلی۔ یعنی یہ جانور ’’چھپکلیوں کا باپ‘‘ تھا۔

ٹیٹالورا کی دریافت سے ہوّاموں (ریپٹائلز) کے ارتقاء سے متعلق جاننے میں بہت مدد ملنے کی امید ہے۔

نوٹ: یہ تحقیق ’’نیچر‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں