کابل ایئرپورٹ خودکش حملے کے روز ایک دھماکا امریکا نے خود کیا تھا، رپورٹ

نیویارک: افغانستان میں کابل ایئرپورٹ پر خود کش حملے کے روز 5 اور دھماکے بھی سنے گئے تھے جن میں سے ایک کے بارے میں تصدیق ہوئی ہے کہ وہ خود امریکا نے کیا تھا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق کابل ایئرپورٹ پر 26 اگست کو دو دھماکوں میں 13 امریکی اہلکار سمیت 170 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ دھماکوں کے بعد بھی رات گئے مزید 5 دھماکے سنے گئے تھے۔ ان میں سے ایک دھماکا نہایت خوفناک دھماکا تھا جس کے بارے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ دھماکا امریکا نے خود کیا تھا۔

اس حوالے سے امریکی حکام نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ کابل ایئرپورٹ پر داعش کی حملے کے روز سنے گئے دھماکوں میں ایک امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے زیر استعمال ’’ایگل بیس‘‘ پر موجود اہم اور خفیہ ساز وسامان کو تباہ کرنے کے لیے کیا جانے والا دھماکا تھا۔

یہ خبر پڑھیں : کابل ائیرپورٹ پر 24 سے 36 گھنٹوں میں ایک اور حملہ ہوسکتا ہے، امریکی صدر

امریکی حکام نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر نیویارک ٹائمز کومزید بتایا کہ ایگل بیس کو تباہ کرنے کا مقصد وہاں موجود حساس معلومات اور آلات کو طالبان کے ہاتھ لگنے سے روکنا تھا۔ یہ مکمل طور پر کنٹرول دھماکا تھا۔

ایگل بیس 20 سالہ افغان جنگ کے دوران دہشت گردی کے خلاف تربیتی اڈے کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

یہ خبر بھی پڑھیں : کابل ایئرپورٹ دھماکوں میں ہلاکتیں 170 سے زائد ہوگئیں

سی آئی اے کے ساتھ کام کرنے والے ایک کنڑیکٹر نے نیو یارک ٹائمز کو بتایا کہ خفیہ دستاویزات جلانے، ہارڈ ڈرائیوز کو کچلنے اور حساس آلات کو ناکارہ بنانا آسان کام نہیں ہوتا اس کے لیے دھماکا کرنا ناگزیر تھا۔

یہ خبر پڑھیں : افغانستان میں امریکی ڈرون حملے میں کابل ایئرپورٹ حملے کا ماسٹر مائنڈ ہلاک

یاد رہے کہ ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی دھماکے کے بعد اپنے بیان میں کہا تھا کہ کابل میں ہونے والا دوسرا دھماکا امریکیوں نے ایگل بیس پر موجود ساز و سامان کو تباہ کرنے کے لیے کیا ہے اس لیے شہری پریشان نہ ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں