بھارت افغانستان میں مداخلت سے باز رہے، گلبدین حکمت یار

کابل: ماضی میں روس کے خلاف جنگ میں قیادت کرنے والے حزب اسلامی کے رہنما گلبدین حکمت یار نے افغانستان میں عالمی برادری کے لیے قابل قبول حکومت کے قیام کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے بھارت کو خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں مداخلت سے باز رہے جب کہ انھیں اس بات کا بھی یقین ہے کہ طالبان خواتین کو نہ صرف حقوق دیں گے بلکہ تحفظ بھی فراہم کریں گے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق افغان دارالحکومت کابل میں طویل پریس کانفرنس میں حزب اسلامی کے بانی و سربراہ گلبدین حکمت یار نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ غیرملکی افغانستان میں اپنی مرضی کی حکومت لانا چاہتے ہیں اور اسی لیے ابھی سے طالبان پر پابندیاں لگانے اور حکومت تسلیم نہ کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

سابق مجاہد لیڈر گلبدین حکمت یار نے بھارت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو افغانستان میں مداخلت نہ کرنے کی یقین دہانی کرانی ہوگی لیکن ایسا کرنے کے بجائے انھوں نے ایک جنگجو گروپ کی حمایت شروع کر دی ہے اور حال ہی میں ایک ویڈیو میں سابق بھارتی فوجی افسر کھلے عام احمد مسعود کے جنگجو گروہ کو اسلحہ فراہم کرنے کی باتیں کر رہا ہے۔
دو بار وزیراعظم رہنے والے گلبدین حکمت یار نے یاد دلایا کہ ماضی میں بھی بھارت نے سویت یونین کا ساتھ دیا تھا اور جس طرح وزیراعظم عمران خان نے وسیع القلبی کا مظاہر کرتے ہوئے امریکا کی جنگ میں حصہ بننے کو ایک غلطی تسلیم کیا اسی طرح بھارت کو بھی افغان عوام کے خلاف روس اور امریکا کا ساتھ دینے پر معافی مانگنا چاہیے۔

سابق وار کمانڈر گلبدین حکمت یار نے غیر ملکی قوتوں سے افغان عوام کو اپنی تقدیر کا فیصلہ کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے اس خواہش کا بھی اظہار کیا کہ افغانستان میں ایسی حکومت قائم ہو جو عالمی برادری کے لیے قابل قبول ہو اور جس میں افغان عوام کی مذہبی اور قومی اقدار کو مدنظر رکھا گیا ہو۔

اس موقع پر گلبدین حکمت یار نے کہا کہ ان کی جماعت طالبان کی حمایت کرتی ہے اور امید کرتی ہے کہ طالبان خواتین کو نہ صرف حقوق دیں گے بلکہ تحفظ بھی فراہم کریں گے اور شریعت کی حدود میں رہتے ہوئے خواتین کو کام کرنے کی اجازت بھی دی جائے گی۔ طالبان کی آمد سے سوائے پنجشیر کے پورے ملک میں امن قائم ہیں اور سب نے طالبان کو خوش آمدید کہا ہے۔

گلبدین حکمت یار نے کہا کہ افغان عوام طالبان کی آمد سے اس لیے بھی خوش ہیں کہ وہ اپنے ملک سے غیر ملکی فوجوں کا انخلا چاہتے تھے اور خوش قسمتی سے ایسا ہوگیا ہے۔ افغانستان میں پاکستان اور ایران سے زیادہ معدنیات ہیں اس لیے افغانستان پر جنگ مسلط کی جاتی ہے تاہم اب یہ سلسلہ بند ہوجانا چاہیئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں