کابل ایئرپورٹ دھماکوں میں ہلاکتیں 100 سے زائد ہوگئیں، 150 زخمی

کابل:
کابل ائیرپورٹ کے نزدیک دو خودکش حملوں میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 100 سے زائد ہوگئی جب کہ زخمی ہونے والے 150 افراد میں سے بعض کی حالت اب بھی تشویش ناک ہے۔

افغان میڈیا کے مطابق کابل میں ایئرپورٹ کے نزدیک ہونے والے حملوں کی ہلاکتوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور یہ تعداد 100 سے زائد ہوگئی ہے۔ اضافے کی وجہ تشویش ناک حالت کے شکار زخمیوں کا دوران علاج دم توڑ جانا ہے۔

اطلاعات کے مطابق زخمیوں کی تعداد 150 کے لگ بھگ تھی جس میں سے بعض کی حالت تشویش ناک ہے جس کے سبب اب بھی ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

یہ پڑھیں : کابل میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت پر امریکی صدر آبدیدہ، بدلہ لینے کا اعلان

دھماکے میں 13 امریکی فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں جس کے بعد امریکی صدر جوبائیڈن نے اپنے فوجیوں کی ہلاکت پر بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ حملہ آوروں کو ہر گز معاف نہیں کریں گے، ہم یہ حملہ کبھی نہیں بھولیں گے، کابل دھماکوں میں ہلاک ہونے والے ہمارے ہیروز ہیں، جنہوں نے حملہ کیا وہ اس کی قیمت چکائیں گے اور ہم انہیں طاقت سے جواب دیں گے۔
دھماکے کی مکمل خبر

حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے باہر 2 خودکش دھماکوں میں 13 امریکی فوجیوں سمیت 90 افراد ہلاک اور 150 زخمی ہوگئے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق کابل میں حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ 2 خود کش دھماکوں سے گونج اُٹھا۔ ایک دھماکا ایئرپورٹ کے مرکزی دروازے پر ہوا جب کہ دوسرا دھماکا قریبی ہوٹل کے باہر ہوا جہاں برطانوی فوجی اور حکام مقیم تھے۔

خود کش دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 90 ہوگئی ہے جب کہ 150 سے زائد زخمی ہیں۔ دھماکے میں 13 امریکی فوجی ہلاک اور 15 زخمی ہوئے جب کہ 28 طالبان بھی دھماکے میں جاں بحق ہوگئے۔

دولت اسلامیہ نے خود کش دھماکے کی ذمہ داری قبول کرلی

سی این این کے مطابق دولت اسلامیہ خراسان نے کابل ائیرپورٹ پر ہونے والے خودکش دھماکوں کی ذمے داری قبول کرلی ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ اپنے ٹیلی گرام چینل پر دیئے گئے پیغام میں کیا ہے۔ شدت پسند گروپ کا کہنا ہے کہ ایک خود کش بمبار نے افغان اور امریکی فوجیوں کے درمیان خود کو دھماکے سے اڑایا۔

ISIS claim kabul attack

خود کش حملے کے بعد مزید 5 دھماکے سنے گئے

کابل کے ایئرپورٹ پر دو دھماکوں کی تصدیق ہوچکی ہے۔ ایک مرکزی دھماکے پر ہوا جب کہ دوسرا ہوٹل کے نزدیک ہوا تھا تاہم دونوں میں سے ایک خود کش دھماکا تھا۔ ان دو کے علاوہ بھی کئی دھماکوں کی آواز سنی گئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں