عالمی برادری افغانستان کو تنہائی کا شکار نہ ہونے دے، وزیر خارجہ

اسلام آباد:
وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ عالمی برادری، ماضی کی غلطیوں سے اجتناب کرتے ہوئے افغانستان کو تنہائی کا شکار نہ ہونے دے اور ان کی معاونت کو یقینی بنائے۔

شاہ محمود قریشی کا برطانوی وزیر خارجہ ڈومینک راب کے ساتھ ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں دونوں وزرائے خارجہ کے مابین دو طرفہ تعلقات، افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتحال اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔

وزیر خارجہ نے برطانوی ہم منصب کو، جرمنی، ہالینڈ، بیلجیئم، ڈنمارک، سویڈن اور یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ سے افغانستان کی صورتحال پر ہونے والے حالیہ روابط سے آگاہ کیا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم کابل ائرپورٹ پر ہونے والے دہشت گردی کے واقعہ کی پرزور مذمت کرتے ہیں جس کے نتیجے میں بہت سی قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا، افغانستان کے حوالے سے لگائے گئے تمام اندازے غلط ثابت ہوئے، افغانستان میں اچانک تبدیل ہونے والی صورتحال سب کے لیے حیران کن تھی۔

انہوں نے کہا کہ طالبان کی جانب سے جنگ کے خاتمے، عام معافی کے اعلان، انسانی حقوق کے تحفظ اور افغان سرزمین کو کسی کے خلاف استعمال نہ کرنے کے حوالے سے منظر عام پر آنے والے بیانات، حوصلہ افزاء ہیں، پاکستان کے لیے قریبی ہمسایہ ملک ہونے کے ناطے، پر امن اور مستحکم افغانستان انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فی الوقت ضرورت اس امر کی ہے کہ افغانوں کی سیکیورٹی اور ان کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے، پاکستان، افغانستان میں اجتماعیت کے حامل، جامع سیاسی تصفیے کا حامی ہے، اس نازک مرحلے پر ہمیں ایسے عناصر سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے جو امن کاوشوں کو سبوتاژ کرنے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔

وزیر خارجہ نے برطانوی ہم منصب کو افغانستان کے تناظر میں علاقائی سطح پر مربوط لائحہ عمل کی تشکیل کے لیے کیے گئے چار ملکی دورے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ پاکستان، برطانیہ سمیت افغانستان سے واپسی کے منتظر مختلف ممالک کے سفارتی عملے، بین الاقوامی اداروں کے ورکرز اور میڈیا نمائندگان کے جلد انخلا کے لیے بھرپور معاونت فراہم کر رہا ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ نے کابل سے برطانوی شہریوں کے انخلاء میں پاکستان کی معاونت کو سراہتے ہوئے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی اور پاکستانی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔

وزیر خارجہ نے برطانوی وزیر خارجہ کے ساتھ ریڈ لسٹ کا معاملہ اٹھایا اور ریڈ لسٹ کے باعث برطانوی پاکستانیوں اور طلباء کو درپیش سفری مشکلات سے آگاہ کیا۔

پاکستان میں کورونا وبا کی صورتحال میں بہت بہتری آئی ہے، ہمیں توقع ہے کہ برطانوی حکومت اس صورت حال کو پیش نظر رکھتے ہوئے پاکستان کو ریڈ لسٹ پر رکھنے کے فیصلے پر نظر ثانی کرے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں