مشکلات سے نمٹنے میں فوج کا شکر گزار ہوں، وزیر اعظم

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان کہتے ہیں کہ اپوزیشن چاہتی ہے کہ کسی طرح فوج ہماری حکومت کو گرا دے، تین سال مشکل وقت گزار اس دوران مدد کرنے پر بالخصوص پاک فوج کا شکر گزار ہوں۔

پی ٹی آئی کی 3 سالہ کارکردگی کے حوالے سے اسلام آباد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کے دوران وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نماز میں ایک ہی چیز مانگتے ہیں کہ اللہ ہمیں ان کی راہ پر لگا جنہیں وہ نعمتیں بخشتا ہے، نوجوان طبقہ نسل ہمارامستقبل ہے، اللہ تعالیٰ نبیﷺ کی زندگی سے سیکھنے کا حکم دیتا ہے، نوجوانوں کو نبی کریمﷺ کی زندگی سے سیکھنا چاہیے، اونچ اور نیچ زندگی کا حصہ ہے، جو بھی حق کی راہ میں کھڑا ہوتا ہے اسے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں برے وقت سے ڈرنا نہیں چاہیے ، اگر ہم مشکل وقت کو صحیح طرح سے سمجھیں تو یہی کامیابی کا راستہ بنتا ہے۔

سعودی عرب اور چین مدد نہ کرتے تو شدید مشکلات ہوتیں
وزیراعظم نے کہا کہ جب وزیراعظم بنا تو یہی کہا کہ مشکل وقت ہے لیکن گھبرانا نہیں ہے، ہمارے تین سال بہت مشکل گزرے ،جب ہم نے حکومت سنبھالی تو ہمارے پاس قرض کی ادائیگیوں کے لیے پیسے نہیں تھے، سعودی عرب اور چین ہماری مدد نہ کرتے تو کافی مشکلات کا سامنا ہوتا، ہمارے روپے کی قدر اور زیادہ گرتی، پیسے نہ ہونے کی وجہ سے مجبوری میں آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا، آئی ایم ایف کی شرائط پر چلنے سے عوام کومشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔

مشکلات سے نمٹنے میں خاص طور پر فوج کا شکر گزار ہوں

وزیر اعظم نے کہا کہ اپوزیشن چاہتی ہے کہ کسی طرح فوج حکومت کو گرا دے، مافیا نے ہماری فوج کے خلاف تقریریں کیں، مشکلات سے نمٹنے میں خاص طور پر پاک فوج کا شکریہ ادا کرتا ہوں، ایک سال بعد ہم مشکل وقت سے نکلنے لگے تھے کہ کورونا آگیا، لاک ڈاوَن سے متعلق اپوزیشن نے بہت زیادہ تنقید کی، لاک ڈاؤن کے باعث کورونا کے پھیلاؤ میں کمی آتی ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے پاکستان کی مثال دی کہ پاکستان نے بہتر طریقے سے کورونا کو ہینڈل کیا۔

صرف پنجاب سے تین برس میں 450 ارب روپیہ ریکور ہوا

عمران خان نے کہا کہ غریب ممالک سے ہر سال ایک ہزار ارب ڈالر روپے چوری ہوکر آف شور اکاؤنٹس میں منتقل ہوتے ہیں، (ن) لیگ کے 8 تا 10 برسوں میں اینٹی کرپشن پنجاب نے صرف ڈھائی ارب روپیہ ریکور کیا جب کہ اس کے مدمقابل ہمارے تین برس میں صرف پنجاب میں کرپشن کا 450 ارب روپے ریکور کیا گیا، ملک تب تباہ ہوتا ہے جب اس کے وزیراعظم اور وزیر چوری شروع کردیتے ہیں، قانون کی حکمرانی تب ہوتی ہے جب قانون سب کے لیے یکساں ہو۔

20 ارب ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اب 1.8 ارب ڈالر پر ہے

عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت میں آئے تو ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا، 20 ارب ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ورثے میں ملا جو برسوں بعد کم ہوکر صرف ایک ارب 8 کروڑ ڈالر تک آگیا۔

یورپ کو افغانستان میں صرف خواتین کی فکر ہے

وزیراعظم نے کہا کہ یورپ کو افغانستان میں صرف خواتین کی فکر ہے، کبھی کسی نے باہر سے آکر کسی ملک میں خواتین کو حقوق دلائے؟ یقینی بنارہے ہیں کہ خواتین کو جائیداد میں حصہ ملے، کیوں کہ خواتین کو جائیداد میں حصہ نہ ملنا بھی ایک بڑا مسئلہ ہے اسی لیے ہم نے وراثتی سرٹیفکیٹ نادرا کے ذریعے دینا شروع کردیا۔

یہ پڑھیں : افغانستان میں جامع حکومت ہی امن واستحکام کیلئے آگے بڑھنے کا راستہ ہے، وزیراعظم

اگلے دس برس میں 10 ڈیم بنانے جارہے ہیں

عمران خان نے کہا کہ ملک میں پانی کی قلت دور کرنے کے لیے اگلے دس برس میں دس ڈیم بنانے جارہے ہیں، مہمند ڈیم 2025ء تک مکمل ہوجائے گا، اسی طرح ہم نے تعلیم کے شعبے میں انقلابی قدم اٹھایا، تعلیم میں ہم ایک نصاب لے کر آئے یہ ہمارے لیے ایک مشکل ترین کام تھا۔

اوورسیز پاکستانی ہمارا بڑا اثاثہ ہیں

اوورسیز پاکستانیوں سے متعلق انہوں نے کہا کہ ہمارا ملک کا سب سے بڑا اثاثہ غیرممالک میں بیٹھے پاکستانی ہیں جو بیرون ملک سے پاکستان ریمی ٹینسز بھیج رہے ہیں۔

اپنی سرزمین دینے کے باوجود افغانستان میں ناکامی کا الزام ہم پر عائد کیا گیا

انہوں نے کہا کہ ہم کبھی بھی اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے، ہم نے اپنے 70 ہزار لوگوں کی قربانی دی، لوگ ہمارے مارے گئے، معیشت ہماری تباہ ہوئی لیکن اس کے باوجود ہمیں ہی الزام دیا جارہا ہے کہ ہماری وجہ سے امریکا افغانستان میں کامیاب نہیں ہوا، ہم نے طے کرلیا کہ آئندہ ہمیں اپنی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے نہیں دینی۔

امریکا ہمارا اتحادی ہوکر ہم پر ہی بمباری کرتا رہا

وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے ملک میں امریکا نے 480 ڈرون حملے کیے، ڈرون حملوں میں جاں بحق ہونے والوں کے ورثا پاکستانی حکومت سے اس کا بدلہ لیتے تھے، امریکا ہمارا اتحادی ہوکر ہمارے اوپر ہی بمباری کرتا رہا۔

افغان قوم دلیر اور لڑنے والی قوم ہے

عمران خان نے کہا کہ افغان قوم دلیر اور لڑنے والی قوم ہے، سویت یونین نے افغانستان پر قبضے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام ہوگیا، ابھی ہمیں ان طالبان کی بات پر یقین کرنا ہے، جب طالبان اپنی بات پر قائم نہیں رہیں گے تو اس وقت کی اسی وقت دیکھی جائے گی اس وقت پوری دنیا کو کوشش کرنی چاہیے کہ افغانستان میں امن قائم ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں