طالبان نے کابل ایئرپورٹ کو فعال رکھنے کے لیے ترکی سے تعاون مانگ لیا

کابل: افغان طالبان نے ملک کے سب سے بڑے ہوائی اڈے کو فعال رکھنے کے لیے ترکی سے تعاون مانگ لیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق افغان طالبان نے غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد کابل ایئرپورٹ کو چلانے کے لیے ترکی سے مدد کی درخواست سے متعلق تصدیق نہیں کی تاہم ترکی کے 2 اعلیٰ حکام نے اس کی تصدیق کی ہے۔

ترک حکام کا کہنا ہے کہ افغان طالبان یہ اصرار کررہے ہیں کہ دیگر ملکوں کی طرح ترکی بھی اپنے تمام فوجیوں کو واپس بلالے لیکن افغان طالبان کا یہ مطالبہ کسی بھی مشن کو پیچیدہ بنادے گا۔ افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد طالبان کی درخواست کی منظوری یا اسے مسترد کرنا ایک مشکل فیصلہ ہے۔
افغان تعاون کی اپیل سے متعلق ایک اور ترک افسر نے کہا ہے کہ افغانستان سے تمام غیر ملکی افواج کے مکمل انخلا کی ڈیڈ لائن 31 اگست تک ہے ، اس کے بعد ہی صورت حال کو طالبان کی درخواست کا فیصلہ کیا جائے گا۔

دوسری جانب کابل ایئرپورٹ پر اب بھی 5400 امریکی فوجی تعینات ہیں، کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد سے غیر ملکیوں اور افغان شہریوں کا انخلا جاری ہے۔ امریکی فوج کے جوائنٹ اسٹاف میجر جنرل ولیم ٹیلر نے ایک بریفنگ کے دوران بتایا کہ ایئرپورٹ سے اوسطاً ہر 39 منٹ بعد ایک طیارہ لوگوں کو لے جارہا ہے۔

ترک فوجی انخلا بھی شروع

ترکی وزارت دفاع کے جاری کردہ بیان کے مطابق متعدد ملاقاتوں، درپیش صورتحال اور شرائط کے جائزے کے بعد افغانستان سے ترک مسلح افواج کے انخلاء کا آغاز کر دیا گیا ہے، ترک مسلح افواج انہیں تفویض کردہ فریضے کی کامیاب ادائیگی کے فخر کے ساتھ وطن واپس لوٹ رہی ہیں۔

واضح رہے کہ ایک ہزار 400 ترک فوجی کابل ائیر پورٹ کے تحفظ اور نظم و ضبط پر مامور ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں