اوپننگ اور فیلڈنگ کپتان کے ماتھے پر شکنیں لے آئی

لاہور: ویسٹ انڈیز میں ٹیسٹ سیریز برابر ہونے پر بھی اوپننگ اور فیلڈنگ کپتان کے ماتھے پر شکنیں لے آئی۔

کنگسٹن ٹیسٹ کے پانچویں روز پاکستانی بولرز کی مسلسل محنت بالآخر رنگ لے آئی اور وہ کیریبیئن مزاحمت کو کچلنے میں کامیاب ہوگئے،میزبان ٹیم نے 7وکٹ پر 159رنز بنائے تھے کہ بارش کی مداخلت کے سبب کھیل روکنا پڑا،چائے کا وقفہ قبل از وقت ہوا۔

ایک گھنٹے بعد میچ دوبارہ شروع ہوا تو بولرز ایک بار پھر بلند عزائم کے ساتھ میدان میں اترے،جیسن ہولڈر نے جارحانہ انداز اختیار کیا تو جوشوا ڈا سلوا بھی آسانی سے ہار ماننے کو تیار نہیں تھے۔
آل راؤنڈر نے پیسرز کی گیندوں پر رنز بنانے کے ساتھ نعمان علی کا اعتماد بھی متزلزل کرنا چاہا،بالآخر اسپنر نے ان کو جال میں پھانس ہی لیا اور ایکسٹرا کور پر فواد عالم کا کیچ بنواکر اننگز 47پر تمام کردی۔

نئی گیند لینے کے بعد شاہین شاہ آفریدی نے کیمار روچ(7)کو ایل بی ڈبلیو کیا، بیٹسمین کو ریویو لینے کا بھی کوئی فائدہ نہ ہوا،پیسر نے اپنے اگلے اوور میں جوشوا ڈا سلوا کو مڈ آن پر فہیم اشرف کی مدد سے آؤٹ کرکے پاکستان کی 109رنز سے فتح کا نقارہ بجا دیا، ویسٹ انڈیز کی ٹیم دوسری اننگز میں 219پر آؤٹ ہوئی۔

شاہین شاہ آفریدی نے اننگز میں 4 اورمیچ میں 10شکار کیے، نعمان علی 3اور حسن علی 2وکٹیں لے اڑے۔یاد رہے کہ اگر کیریبیئنزیہ میچ ڈرا کرلیتے تو پاکستان 21سال بعد ویسٹ انڈیز میں پہلی سیریز ہارجاتا۔

دریں اثنا جمیکا سے ورچوئل میڈیا کانفرنس میں کپتان بابر اعظم نے کہا کہ فواد عالم کی بیٹنگ،فہیم اشرف اور حسن علی کے ٹیم کیلیے رنز، شاہین شاہ آفریدی اور کنڈیشنز سازگار نہ ہونے کے باوجود نعمان علی کی بولنگ مثبت پہلو تھے، البتہ ہمیں اوپننگ اور فیلڈنگ میں بہتری لانے کی ضرورت ہے جس کیلیے پوری کوشش کریں گے۔

کپتان نے کہا کہ ایک شراکت کا آغاز ہونے کے بعد وکٹ گرجانے کے مسئلے پر بھی قابو پانا ہوگا،ٹیسٹ کرکٹ میں صبر تحمل سے کریز پر جمے رہنے کی ضرورت ہوتی ہے، اس ضمن میں فواد عالم ایک مثال ہیں،دیگر کو ان سے سیکھتے ہوئے اچھے آغاز کو بڑے اسکور میں بدلنے کا ہنر سیکھنا ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ ہم پہلا ٹیسٹ مواقع گنوانے کی وجہ سے ہارے لیکن کوئی دباؤ نہیں تھا،سب کو یقین تھا کہ دوسرا میچ جیت کر سیریز برابر کردیں گے،میچ میں صرف 2رنز پر 3وکٹیں گرنے کے بعد فواد عالم اور میری شراکت سے بیٹنگ کو استحکام ملا، سینئر بیٹسمن نے مشکل کنڈیشنز میں شاندار اننگز کھیلی، شاہین شاہ آفریدی نے زبردست بولنگ سے حریف بیٹنگ لائن کو دباؤ کا شکار کیا۔

بابر نے کہا کہ سیریز برابر کرنے کا موقع تب ہی مل سکتا تھا جب میزبان بیٹنگ لائن کی وکٹیں اڑانے کا وقت باقی ہوتا، اسی لیے دوسری اننگز میں بولڈ فیصلہ کرتے ہوئے تیز کھیلنے کا پلان بنایا جو کامیاب رہا۔

انہوں نے کہا کہ اوپنرز سمیت تمام مثبت ذہن سے کھیلے اور ٹیم کیلیے ضرورت کے مطابق رنز بنائے، چوتھے روز ویسٹ انڈیز کو چند اوورز کھلانے کیلیے اننگز ڈیکلیئر کی، ایک وکٹ بھی حاصل ہوگئی،میں نے گذشتہ2 سال میں بطور کپتان کافی کچھ سیکھا ہے،دوسرے ٹیسٹ میں ٹیم کی پرفارمنس سے حوصلہ بڑھا، اسی اعتماد کو لے کر آگے بڑھوں گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں