خیبر پختونخوا میں ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے افسراں وملازمین کے خلاف تحقیقات شروع

پشاور:
قومی احتساب بیورو (نیب) خیبر پختونخوا نے ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے افسروں اور تمام سرکاری ملازمین کے خلاف 480 ملین کرپشن کیس میں انویسٹی گیشن شروع کردی۔

نیب پشاور میں ایک شکایت موصول ہوئی تھی جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے ملازمین نے موضع ٹوکڑا نمبر 1 میں 480 ملین روپے کی کمرشل سرکاری جائیداد کو اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے پرائیویٹ شخص کو جعلسازی کے ذریعے مستقل طور پر منتقل کیا تھا اور جعلی انتقال جاری کیا، مزید انہوں نے قانون کی مکمل خلاف ورزی کرتے ہوئے سرکاری ریکارڈ میں بھی بوگس انٹری کی جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔

نیب نے ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے افسروں اور تمام سرکاری ملازمین کے خلاف 480 ملین کرپشن کیس میں انویسٹی گیشن شروع کردی۔ ڈی جی نیب (کے پی) بریگیڈیئر (ر) فاروق ناصر اعوان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ چیئرمین نیب جسٹس جاویداقبال کی ہدایات کے مطابق ، نیب خیبر پختونخوا قانون کے مطابق ٹھوس شواہد کی بنیاد پر احتساب کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بدعنوانی کا خاتمہ نہ صرف ہماری سماجی اور اخلاقی ذمہ داری ہے بلکہ یہ ہماری آنے والی نسلوں کے خوشحال مستقبل کو بھی یقینی بناتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں